جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری نے ایوان میں کہا کہ جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی (جے کے پی سی سی ) نے صوبہ کشمیرکے کھریو (پلوامہ) اور کھنموہ (سری نگر) میں فضائی آلودگی کا باعث بننے والی صنعتوں کے نئے یونٹوں کے قیام اور رجسٹریشن پر 2021 سے دو سال کی مدت کے لئے پابندی عائد کردی ہے۔وزیر موصوف ایوان میں رُکن اسمبلی حسنین مسعودی کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ یہ حکم 20 ؍دسمبر 2023 ء کو کمیٹی کے ذریعے نظرثانی کے بعد یکم؍ جنوری 2024 ء کو فیصلہ کیا گیا کہ نئے یونٹوں کے قیام پر پابندی صرف سیمنٹ پلانٹس، اسٹون کرشرز، اینٹوں کے بھٹے، مائننگ اور ہاٹ مکس پلانٹس کے سلسلے میںنافذ رہے گی جب تک کہ سالانہ اوسط ایئر کوالٹی انڈکس (اے کیو آئی) 100 سے نیچے نہ آجائے یا سی اِی پی آئی سکور 60 سے کم نہ ہوجائے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے کہا کہ کھریو اور کھنموہ علاقوں میں فضائی معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کے لئے ضروری اَقدامات کئے جائیں گے۔نائب وزیر اعلیٰ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جموں و کشمیر سیمنٹ لمیٹڈ (جے کے ایل سی) کے تینوں پلانٹس 2019 ء سے بند ہیں جس کی بنیادی وجوہات میں فی ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں کمی، بجلی کی ناقص فراہمی کی وجہ سے آپریشنز میں باقاعدگی سے تعطل پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ورکنگ کیپیٹل کی عدم دستیابی کی وجہ سے پلانٹ کی پیداوار میں بھاری نقصان ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مناسب دیکھ دیکھ نہ ہونے کی وجہ سے پلانٹ اور مشینری باقاعدگی سے خراب ہوجاتی ہے اور ستمبر 2014 ء کے سیلاب، 2016 ء اور 2019 ء کی بدامنی جیسے غیر متوقع عوامل نے کمپنی کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پلانٹ کے مکمل آپریشنز کی بندش کی دیگر وجوہات میں بھاری نقصانات بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکیداروں اور مختلف محکموں کی طرف سے بڑھائی گئی تنخواہوں، بلوں، ملازمین کے سی پی فنڈ، جی ایس ٹی واجبات وغیرہ کی وجہ سے کمپنی پر اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑاہے۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ فی الحال جے کے سی ایل ڈِس انوسٹمنٹ کے عمل میں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جے کے سی ایل کو بحال کرنا ممکن نہیں، اس لئے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کی ایڈمنسٹریٹیو کونسل نے اِنتظامی کونسل کے فیصلے نمبر113 /15/2021 کے تحت بتاریخ 19 ؍اکتوبر 2021 ء کو جے کے سی ایل او راس کے اثاثوں کی مکمل فروخت کی اَصولی منظوری دی ۔نائب وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر فوائد کو مالی برس 2024-25 ء کے بجٹ میں شامل کیاگیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ملازمین کے لئے چھٹے پے کمیشن کے فوائد لاگو کئے گئے ہیں۔
