فرانس میں وقفے وقفے کے بعد مسلم شناختوں کے بارے میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں،بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ نشانے پر رہتی ہیں اور کبھی کبھی انہیں قانونی شکل بھی دینے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ اب پھر ایک بار فرانسیسی سینٹ میں پردے کا مسلہ گونج رہا ہے اور سینٹ نے کھیلوں کے مقابلے میں حجاب سمیت تمام مذہبی علامات پر پابندی کے بل کو منظور کیا ہے ،اگر چہ یہ بل ابھی قانون بننے کے لئے اسمبلی میں جائے گا تاہم دائیں بازو کی حکومت نے اس کی بھر پور تائید کا اعلان کیا ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بائیں بازو کے سیاستدانوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے ، اس کے ساتھ ہی حقوق انسانی کی تنظیموں اور مسلم کیمونٹی نے اس سے امتیازی قرار دیا ہے ، ،ایمنسٹی نے اپنے موقف کو ایک جملے میں بلکل واضح کردیا ہے کہ یہ قانون مسلم خواتین کے خلاف مذہبی نسلی اور صنفی امتیاز کو بڑھاوا دے گا ،،اور اس کی تائید یہ کہہ کر ماہرین اقوام متحدہ نے کی ہے کہ یہ قانون غیر مناسب اور امتیازی خصو صیت کا حامل ہے ،آپ کو یاد ہوگا کہ اسی ملک فرانس سے کئی بار اس طرح کی مسلم دشمنی اور دل آزاری کی تحریریں یا کار ٹون بھی شائع ہوتے رہے ہیں جن سے مسلم دنیا سراپا احتجاج ہوتی رہی ہے اور یہ سب سیکولر ازم اور آزادئے رائے کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے ، لیکن جہاں اور جن ممالک میں آزادی رائے اور انسانی سوچوں پر بھی پا بند یاں اور عقوبت خانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں ان کے خلاف نہ تو بات ہوتی ہے اور نہ کسی کان پر جوں رینگتی ہے ، بہرحال ہمیں معلوم ہے کہ مغرب کے اہداف مسلمانوں کے لئے کیا ہیں؟
پردہ یا حجاب پچھلے کئی برس کے دوران مختلف ممالک میں موضوع بحث ہی نہیں بلکہ اس مسلے کو لے کر غیر سنجیدہ اور متعصب لوگ زبردست پریشانی کے عالم میں کراہ رہے ہیں ،یورپی ممالک کی بات ہی نہیں بلکہ یہاں اپنے ملک میں بھی کئی ریاستوں میں یہ ایک بہت بڑا مسلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے ، کئی کالجوں اور تعلیمی اداروں کے علاوہ کمر شل اداروں نے بھی باضابطہ یہ ہداہت جاری کی ہے کہ کوئی بھی ملازم پردہ یا حجاب لگا کر ڈیوٹی پر نہیں آسکتا ،ظاہر ہے کہ یہ پابندی مسلم کیمو نٹی سے ہی تعلق رکھتی ہے کیونکہ جس سے عام فہم الفاظ میں پردہ یا حجاب کہا اور سمجھا جارہا ہے وہ امتِ مسلمہ ہی کے ڈریس کا حصہ سمجھا جارہا ہے ، اس سلسلے میں کئی مقامات اور کالجوں میں احتجاج یا ہنگامے بھی ہوئے ہیں اور اب بھی جب ضرورت پڑتی ہے اس مسلے میں نئی جان ڈال کر اپنے سیاسی مقاصد کی طرف بڑھا جاتا ہے ۔ ؟ بھارت میں تو پچھلے برس ایک کالج میں سٹوڈنٹس کو حجاب نہ پہننے یا دوسرے الفاظ میں پردہ کرنے کی جو مما نعت کی جاچکی ہے یہ اپنے آپ میں ایک تحیر انگیز اور فکر انگیز واقعہ ہے ۔۔ اصل مسلہء ’’حجاب‘‘ نہیں۔ کیونکہ حجاب مسلہ ہو ہی نہیں سکتا اس پس منظر میں کہ یہاں بھارت میں ہزاروں برسوں سے ،یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ویدک زمانوں سے ہی کسی نہ کسی صورت میں پردے کا رواج رہا ہے بلکہ پردہ ، گھو نگھٹ ، چنری، ساڈھی ویدک زمانے سے بھی ڈریس کا حصہ رہا ہے ، لیکن اس سب کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ ،سکھ برادری داڈھی رکھتی ہے ، پگڑی باندھتی ہے ،کرپان رکھتی ہے جو ان کے مذہبی ڈریس کوڈ کی شناختیںہیں اور اس طرح بھارت میں۔ جو رنگا رنگ تہذیبی اور تمدنی کثرتوں کا حامل ہے کسی پر اعتراض نہیں کیا جاسکتااور اعتراض کرنے کا سوال ہی آئینی اور منطقی طور پر پیدا نہیں ہوتا ، پھر ایک مسلم شناخت نشانے پر کیوں ؟جب کہ یہ بات واضح اور صاف ہے کہ یہ مسلم کلچر میں ہی شامل نہیں بلکہ اہل اسلام کے لئے ایک مذہبی فریضہ اور شرعی حکم ہے۔ اور یہ مسلم خواتین کی اپنی ایک شناخت اور پہچان بھی ہے جس کے بارے میں سوالات اٹھانا قطعی طور پر دین میں مداخلت بے جا کہی جا سکتی ہے ، اصل مسلہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکی معاشرے جو اس دور کی امامت کر رہے ہیں، کے کلچر ، تہذیب و تمدن اور اقدار کو ساری دنیا پر کلہم طور پر محیط ہونے میں اس وقت بھی اپنی ناتوانی اور ضعیفی کے باوجود اسلام علمی ، عقلی اور معاشرتی چلینج بن کے ان کی راہ میں کھڑا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نام نہاد مسلم ممالک ہی سہی لیکن اس کے باوجود مغربی اور امریکی تمدن کو پوری طرح نہ تو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی پورے کے پورے ان کے رنگ کو قبول کر رہے ہیں ۔
انیسویں صدی کی آخری دہائی سے آزادی نسواں کی جو تحریک مسلم ممالک میں متعارف کرائی گئی اس کے پیچھے اصل میں یہی عزائم تھے کہ آہستہ آہستہ اسلامی شعائر اور طرز زندگی کو ہی اسلام کے دائروں سے بہت دور لیا جاسکے اور اس کے لئے یہودی بڑے علما اور فلاسفرس نے ہر خرافات کو علمی اور سائینٹفک لبادوں میں پیش کرکے اقوام عالم اور مسلم قوم کو کچھ زیادہ ہی تحقیر اور تضحیک کا نشانہ بنایا ، مغربی تہذیب و تمدن کا ماحاصل ہی عورت کی وہ آزادی ہے جو بے قیود بے ضابطہ اور کسی بھی دائرے میں مقید نہ ہو اور یہ کہ عورت اپنے جسم کو جس طرح اور جس انداز میں بھی بازار حسن میں پیش کرنا چاہئے ، کرنے کی مجاز ہو اور اس پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی ، مذہبی یا سماجی قدغن نہ ہو بلکہ وہ ’’میرا جسم ،میری مرضی کا عملی طور پر چلتا پھرتا اشتہار ہو ‘‘ یہ بہت ہی مختصر سی ڈیفنیشن ہوسکتی ہے ،، انسانی تہذیب و تمدن کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ عورت ذات کے وجود کو ہی شرم اور گناہ کا درجہ تھا ، بہت سی اقوام میں بیٹی کی ذلت سے بچنے کے لئے لڑکیوں کا قتل بھی جائز تھا ، رسول پا ک ﷺ نے ہی عورت کو تاریخ میں پہلی بار عزت اور وقار کا درجہ ہی نہیں دیا بلکہ دنیا سے یہ تسلیم کرایا کہ وہ بھی اللہ کی اسی طرح مخلوق ہے جس طرح کی مرد ،، اور اعلان فرمایا کہ (( اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اور اسی کی جنس سے اس کے جوڈ ے کو پیدا کیا ، (النساء) ( خدا کی نگاہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ،(النساء ۳۲) اور اس طرح سے وہ انقلاب پیدا ہوا جس کی چھاپ آج تک مسلم معاشروں میں کچھ دھندلی ہی سہی پھر بھی نظر آتی ہے ، اور جہاں عورت کویہ توقیر احترام ، عظمت اور پر جمال تقد س کا مقام عطا ہوا وہاں اس محترم اور اونچے پاکیزہ مقام پر ٹہھرے رہنے کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اور اور وہ بندھ باندھ لئے جو انسانی فطرت کے عین مطابق بھی ہیںاور اس تقدس کو روز مرہ زندگی کے معمولات کی بجاآوری کے باوجود بر قرار رکھنے میں انتہائی ممدوع و معاون ہیں ، ان میں حجاب بھی ایک فیکٹر ہے ، جس سے مسلم معاشرے کے چہرے سے نوچنے کے لئے ساری مغربی اور مسلم دشمن اقوام متحد طور پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی معاشروں نے بہت سارے اسلامی احکامات کو اپنے سائنسی ذرائع ابلاغ ، مسلسل منصوبہ سازی اور پیہم تگ و دو سے سے منفی شکل میں پیش کیابلکہ یہ باور کرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈی اور نہ چھوڈ رہے ہیں جن کی وجہ سے آج کا مسلماں بڑی حد تک اس سے نہ صرف متاثر ہے بلکہ ایک بڑی تعداد مسلموں کی ان معاملات میں مغرب کے ہم خیال ہے ، یہی معاملہ حجاب کا بھی ہے ، حجاب کاجہاں تک تعلق ہے۔ قرآنِ حکیم میں کئی جگہوں پر عورت کی توقیر ، عزت و احترام اور اس سے محفوظ و مامون رکھنے کے لئے حجاب کے احکامات دئے گئے ہیں ، اس دور میں عجیب و غریب دلائل اور بحثیں اس منطق تک جان بوجھ کر پہنچائی جارہی ہیں کہ حجاب یا پردہ عورت کی آزادی سلب کرتا ہے ، سماج میں اس سے بنیادی حقوق سے ہی محروم کرتا ہے اور ایک طرح سے عورت کو اپنی زندگی قید میں بِتانا پڑتی ہے ، یہ دو تین جملے شاید مغربی انداز فکراور نقطہ نگاہ کی عکاسی کرتے ہیں ، لیکن کیا واقعی ایسا ہے ؟ یہی وہ بات ہے جس سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
مرد و زن کے بہتر تعلقات اور ایک فلاحی معاشرے کی استواری پر اگرچہ قرآن حکیم میں بہت ساری آیات کریمہ بنی نوحہ انسان کی رہبری کے لئے موجود ہیں لیکن ہم صرف دو آیت کریمہ کے حوالے سے اللہ کی منشا اور مرضی سے آشنا ہوسکتے ہیں ، ’’اللہ نے تمہارے لئے خود تمہیں ،میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے،اس طریقے سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا ہے ‘‘(الشوریٰ ۱۱) ظاہر ہے کہ اللہ نے تمام حیوانات کی طرح انسان کے جوڑے بھی اسی مقصد کے لئے بنائے ہیں کہ ان کے تعلق سے انسانی نسل جاری ہو، ۔ انسان کی حیوانی فطرت میں صنفی میلان اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اس کے زوجین باہم مل کر خدا کی زمین کو اپنی نسل سے آباد رکھے ،،اور پھر مرد کو یاد بھی دلایا کہ ’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ‘‘(البقرہ ۲۲۳) یہاں اس آیت کریمہ میں عورت کو مرد کی کھیتی قرار دے کریہ واضح کیا گیا کہ انسانی زوجین کا تعلق دوسرے حیوانات کے زوجین سے قطعی منفرد اور مختلف ہے ، جس طرح کھیتی میں کسان محظ بیج ڈال کر اپنی ذمہ داری سے فارغ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے اور بہتر فصل کے لئے اس کھیت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس میں پانی بھی دیتا ہے ، کھاد بھی مہیا کرتا ہے اور اس کھیت کی اس طرح حفاظت کرتا ہے کہ بے لگام اور آوارہ جانوروں کو اس کھیت میں منہہ مارنے کے مواقع میسر نہ آئیں ،در حقیقت کھیتی اور فصل اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان جس نے بیج بوئے ہیں اس کی رکھوالی بھی احسن طریقے سے کرے ، یہی وجہ ہے کہ عورت کی عظمت ، عفت ، عصمت اور تقدس کو بر قرار رکھنے کے بہت سارے عوامل اور حفاظتی تدبیروں میں حجاب ایک بہت ہی مناسب اور بہتر تدبیر ہے ۔
