14

مناسب معیاری جانچ کے بعد ہی وادی میں کھادوں اور کیڑے مار اَدویات کی اِجازت دی جائے گی ۔ جاوید احمد ڈار

سال 2024-25 کے دوران کیڑے مار اَدویات کے 3,010 نمونے ، کھادکے 1,065 نمونے جانچ کیلئے جمع کئے گئے

جموں//وزیر برائے زرعی پیداوار جاوید احمد ڈار نے کہا کہ کھاد کی کھیپ کو صرف نمونوں کی جانچ کے بعد ہی وادی میں جانے کی اجازت ہے۔وزیرموصوف ایوان میں آج رُکن اسمبلی ہلال اکبرلون کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ کھاد کی جانچ کے لئے اودھمپورریک پر بیچ وائز نمونے لینے کا ایک منظم طریقہ کار موجود ہے جہاں سے یہ نمونے جموں کے کوالٹی کنٹرول لیب میں ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ جب تک نمونے معیاری ثابت نہ ہوں، کھاد کی ترسیل کو وادی بھیجنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ لور مُنڈا میں ایک چیک پوائنٹ قائم ہے جہاں کھاد اور کیڑے مار اَدویات کی کھیپ کے دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اِس کے علاوہ سیمپلنگ او رٹیسٹنگ کے لئے متعلقہ اضلاع کے انسپکٹروںکو نمونے لینے اور جانچ کے لئے آگاہ کیا جاتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہاکہ فروخت کی اجازت بھی صرف اس وقت دی جاتی ہے جب نمونے معیاری ثابت ہوں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس کے علاوہ تھوک فروشوں اور پرچون فروشوں کے سٹاک سے بھی بے ترتیب نمونے لئے جاتے ہیں اور اگر یہ نمونے غیر معیاری ثابت ہوں تو متعلقہ تھوک فروشوں، ڈیلروں اور ریٹیلروںکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔وزیر نے کہا کہ کیڑے مار اَدویات کی فروخت سے پہلے ان کی جانچ کے لئے بھی یہی طریقہ کار اَپنایا جاتا ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ زرعی پیداوار محکمہ کے پاس یو ٹی سطح پر ایک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ موجود ہے جبکہ ضلعی سطح پر بھی قانون عملانے والی ایجنسیاں موجود ہیں جو غیر معیاری کیڑے مار اَدویات اور کھادوں سے متعلق شکایات پر کڑی نظر رکھتی ہیں۔اُنہوں نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 2024-25 ء کے دوران 3,010 کیڑے مار اَدویات اور 1,065 کھاد کے نمونے جانچ کے لئے جمع کئے گئے ہیں۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی بشیر احمد وِیری نے اِس معاملے پر ضمنی سوال اُٹھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں